
اغراض و مقاصد

ضروریاتِ خمسہ (مقاصدِ شریعت)
دارالسلام کے پہلے ۵ بنیادی مقاصد شریعتِ اسلامیہ کی ضروریاتِ خمسہ پر مبنی ہیں۔ ان کا مقصد موجودہ دور کے معاشی، اخلاقی اور سماجی بگاڑ میں انسان کے ایمان، جان، عقل، نسل اور مال کو مکمل شرعی و عملی تحفظ فراہم کرنا ہے:

دین کی حفاظت
دارالسلام کا اولین مقصد ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں ایمان کی حفاظت اور دین پر عمل آسان ہو۔ نماز، ذکر، تلاوت، دینی علم اور سنت کے مطابق زندگی کو روزمرہ معمولات میں جگہ دی جائے گی۔

تزکیۂ نفس اور اصلاحِ کردار
دارالسلام کی اجتماعی زندگی انسان کو اپنی عادات کا جائزہ لینے، نفس کی بے اعتدالیوں پر قابو پانے اور اپنے شب و روز کو سنت کے مطابق ڈھالنے کی دعوت دے گی۔ عبادت، سادہ خوراک، وقت کی پابندی، محنت اور باہمی جواب دہی اس تربیت کے بنیادی ذرائع ہوں گے۔

علمی و تحقیقی ادارے کا قیام
دارالسلام میں ایک جامع تحقیقاتی ادارہ قائم کیا جائے گا جہاں مختلف علوم و فنون میں گہری بصیرت رکھنے والے اہلِ علم تیار ہوں گے۔ یہاں تحقیق، اجتہاد، تحریر اور خطابت کی منظم تربیت دی جائے گی تاکہ اس ادارے سے مجتہدین، محققین، محررین، مقررین اور اپنے اپنے فن کے ماہرین پیدا ہوں۔

صالح نسل کی تیاری
بچوں کو ایسے ماحول میں پروان چڑھایا جائے گا جہاں انہیں علم کے ساتھ کردار، عبادت، محنت، حیا، ذمہ داری اور خدمت کا شعور ملے۔ والدین اور تعلیمی ادارہ مل کر ان کی فکری، اخلاقی، جسمانی اور عملی تربیت کریں گے۔

سادہ اور مسنون معاشرت
نکاح، خوشی، غمی، جنازے اور تدفین سمیت اجتماعی زندگی کے معاملات کو سنت کے قریب رکھا جائے گا۔ غیر ضروری رسموں، نمودونمائش اور مالی بوجھ سے بچا جائے گا۔ نکاح آسان ہوگا اور حق مہر میں سہولت و اعتدال اختیار کیا جائے گا۔
تکمیلی و انتظامی مقاصد (معاشرتی ستون)
دارالسلام کے یہ ۳ مقاصد بستی کے اجتماعی، فکری اور انتظامی نظام کو استوار کرتے ہیں۔ ان کا مقصد مسلکی تفرقہ بازی کا خاتمہ، جدیدیت کا علمی مقابلہ کرنے والے داعیانِ حق کی تیاری، اور سنتِ نبوی کے مطابق شورائی نظام کے تحت ملکی قوانین کی کامل پاسداری کرنا ہے

فرقہ واریت سے اجتناب
بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث جیسی فقہی و مسلکی نسبتوں کو باہمی نزاع کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے فقہی مسلک پر عمل کرسکے گا، مگر دوسروں کی تحقیر، مناظرانہ کش مکش اور فرقہ وارانہ گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی۔

باہمی اخوت اور کفالت
اہلِ بستی ایک دوسرے کی جان، مال، عزت اور ضرورت کا خیال رکھیں گے۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننا، بیمار کی نگہداشت کرنا، کمزور کی مدد کرنا اور اجتماعی کاموں میں حصہ لینا مشترک ذمہ داری ہوگی۔

معاشی خود کفالت
کاشت کاری، مویشی پروری، ہنرمندی، چھوٹی صنعت اور مقامی کاروبار کے ذریعے ضروریاتِ زندگی بستی کے اندر پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بیرونی وسائل پر انحصار کم ہوگا اور اہلِ بستی کے لیے باعزت روزگار پیدا کیا جائے گا۔
